ابنا: سرکاری ٹیلی ویژن پر براہ راست خطاب میں حسن روحانی نے کہا کہ افزودگی ایک حق ہے جس پر بین الاقوامی قوانین میں پابندی عائد نہیں ہے اور تہران کبھی بھی ملک میں اپنی سرگرمیوں کو نہیں روکے گا۔روحانی نے اپنی حکومت کی تشکلیل کے 100 دن پورے ہونے کے موقع خطاب میں کہا کہ افزودگی، کہ جو ہمارے جوہری حقوق کا ایک حصہ ہے جاری رہے گی، یہ آج بھی جاری ہے اور کل بھی جاری رہے گی اور ہماری افزودگی کبھی بند نہیں ہوگی اور یہ ہماری ریڈ لائن ہے۔ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان حالیہ جوہری معاہدے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کرتے ہوئے صدر محترم نے کہا کہ ملک کے خلاف عائد کی گئی پابندوں میں شگاف پڑ گئے ہیں۔روحانی نے کہا کہ ان کی انتظامیہ ایران کے خلاف یکطرفہ اور کثیر الجہتی پابندیوں کو غیر موثر کرنے میں کامیاب رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کتنے لوگ ایران کو الگ تھلگ کرنا چاہتے تھے، لیکن آج کون الگ تھلگ پڑ گیا ہے؟ حقیقت میں ہمارے دشمن الگ تھلگ پڑ گئے ہیں۔واضح رہے کہ ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان مذاکرات کے بعد جنیوا میں 24 نومبر کو ابتدائی معاہدہ طے پایا تھا۔ اس معاہدے کے تحت ایران کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کا حق حاصل ہوگا اور اس خلاف عائد پابندیاں بتدریج اٹھالی جائیں گی۔اسرائیلی وزیراعظم نے عالمی طاقتوں کے ایران کے ساتھ عبوری جوہری معاہدے کو ایک تاریخی غلطی قرار دیتے ہوئے اپنے غصے کا اظہار کیا تھا۔نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی پابندیوں کو پوری طرح نظر انداز کرتے ہوئے پہلی مرتبہ عالمی طاقتیں ایران کو یورینیم کی افزودگی کی اجازت دے رہی ہیں۔......./169
26 نومبر 2013 - 20:30
News ID: 483719
ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی کا کہنا ہے کہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کے تحت ایران کو یورینیم کی افزودگی جاری رکھنے کا حق ہے۔